×

”حضر ت علی ؓ نے فر ما یا ۔ جس نے اپنی پر یشانیوں کو لوگوں پر ظاہر کیا تو؟“

حضرت علی ؓ سے کسی نے سوال کیا کہ آپ ؓ کو رسول اللہ ﷺ سے کتنی محبت ہے؟ تو آپؓ نے فر ما یا: کہ خدا کی قسم حضور ﷺ ہمارے مال، ہماری اولاد، ہمارے باپ، ہماری ماں اور سخت پیاس کے وقت پانی سے بھر بڑھ کر ہمارے نزدیک محبوب ہیں۔ عاقل د ش م ن احمق دوست سے بہتر ہو تا ہے نعمتوں کی مستی میں ڈوبے رہنے سے بچے رہو اور بلا ؤں کی سختی سے ڈرو۔ انسان کا سب سے بڑا بو جھ اس کا غصہ ہے ۔ احسان کرنے اور درگزر کے ذریعے گ ن ا ہ وں کو چھپانے سے عظمت و بزرگی ملتی ہے۔ شریر میں کو ئی اچھی بات دیکھو تو اس سے دھو کہ نہ کھا ؤ اور شریف سے کوئی غلطی سرزد ہو جا ئے تو اس سے نفرت نہ کرو۔

حکمت اسی کا نام ہے کہ تم اپنے سے با لا تر سے نہ جھگڑو۔ اپنے سے کم تر کو ذلیل نہ سمجھو۔ جو تمہارے بس میں نہیں اس کی کوشش نہ کرو۔ تمہاری زبان تمہارے دل کی مخالفت نہ کرے۔ جو جانتے نہیں اس کے بارے میں زبان نہ کھو لو جو چیز آ رہی ہے اسے ترک نہ کرو۔ جو جا رہی ہو اسے لینے کی کوشش کرو۔ جس نے اپنی پر یشا نیوں کو لوگوں پر ظاہر کیا تو وہ اپنی ذلت پر راضی ہو گیا۔ حضرت علی ؓ نے اپنی تلوار دے دی ! اس شخص نے تلوار زور سے دیوار پر ماری لیکن کچھ نہیں ہوا تو کہنے لگا یا علی ؓ آپ تو کہہ رہے تھے پہاڑ توڑ دیتی ہے لیکن دیوار تو نہیں ٹوٹی؟ حضرت علی ؓ نے مسکراتے ہوئے کہا؟ میں نے تمہیں اپنی تلوار دی ہے اپنا ہاتھ نہیں ذالفقار تبھی ذالفقار ہے۔

جب علی ؓ کے ہاتھ میں ہو ورنہ یہ صرف لو ہے کا ٹکڑا ہے اور کچھ نہیں حضرت علی ؓ نے فر ما یا ! مجھے عبادت میں دو چیزیں پسند ہیں سرد موسم میں فجر کی نماز اور گرم موسم میں رمضان کے روزے! عبادت ایسے کرو جس سے روح کو مزہ آ ئے کیوں کہ جو عبادت دنیا میں مزہ نہ دے وہ آخرت میں کیا جزا دے گی ! جب گناہوں کے باوجود اللہ پاک کی نعمتیں مسلسل ملتی رہیں تو ہو شیار ہو جا نا کہ تیرا حساب قریب اور سخت ترین ہے ! ایک دن امیر المو منین حضرت علی ؓ مسجد کے دروازے پر اپنے خچر سے اترے تو آپ ؓ نے اپنا خچر حفاظت کے خیال سے ایک شخص کے حوالے کیا اور مسجد میں تشریف لے گئے۔

آپ ؓ کے جانے کے بعد اس شخص کے دل میں خیا نت نماز سے فارغ ہو کر جب مسجد سے با ہر تشریف لا ئے تو آپ ؓ کے ہاتھ میں دو درہم تھے یہ دو درہم آپ ؓ خچر کی نگہبانی کرنے والے شخص کو بطور معاوضہ دینا چاہتے تھے لیکن آپ ؓ نے دیکھا کہ خچر بغیر لگام کے خالی کھڑا ہے بہر حال آپ ؓ بغیر لگام کے خچر پر سوار ہو کر گھر پہنچے اور اپنے غلام کو دو درہم دیے کہ وہ بازار سے دوسری لگام خرید لا ئے غلام بازار گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں