×

”رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں یہ نوافل پڑھو اور رب سے ایسی حاجات پوری کروا لو جو عرصے سے دل میں لیے بیٹھے ہو۔“

حضور انور سرکار دو عالم ارشاد فرماتے ہیں کہ میری امت میں سے جو مرد یا عورت یہ خواہش ظاہر کرے کہ میری قبر نورکی روشنی سے منور ہو تو اسے چاہیے کہ ماہ رمضان کی شب قدر میں کثرت کے ساتھ عبادت الٰہی بجا لائے تاکہ ان مبارک اور متبرک راتوں کی عبادت سے اللہ پاک اس کے نامہ اعمال سے برائیاں مٹا کر نیکیوں کا ثواب عطا فرمائے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس نے فرمایا:۔جو شخص لیلة القدر میں ایماندار ہو کر بغرض ثواب شب بیداری کرے، اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شخص رمضان کے روزے بحالت ایمان ثواب سمجھ کر رکھے اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے

حضور اکرم نے فرمایا:جو شخص شب قدر میں دو رکعت نماز پڑھے، ہر رکعت میں سورة فاتحہ، سات بار سورة اخلاص سات بار، بعد ختم نماز استغفراللہ الذی لا الہ الاہوالحی القیوم و اتوب الیہ ستر مرتبہ پڑھے تو اپنے مصلے سے نہ اٹھے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کے اور اس کے والدین کے گناہوں کی مغفرت فرما دے گا اور فرشتوں کو حکم ہو گا کہ اس کے لیے جنت میں میوﺅں کے درخت لگاتے رہیں۔ محل تعمیر کرتے رہیں، نہریں لگاتے رہیں۔ یہ پڑھنے والا ان کو جب تک اپنی آنکھ سے خواب میں نہ دیکھ لے گا اس وقت تک اس کو موت نہ آئے گی۔ جو شخص چار رکعت نماز پڑھے، ہر رکعت میں سورة فاتحہ کے بعد ایک بار سورة التکاثر اور سورة اخلاص تین بار پڑھے اس پر موت کی سختی آسان ہو گی، عذابِ قبر اٹھ جائے گا۔ اس کو جنت میں چار ستون ملیں گے جن کے ہر ستون پر ہزار محل ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں