×

ایک دن آپ ﷺ حجرے سے با ہر تشریف لا ئے آپ کے ساتھ حضر ت علی بن ابی طالب ؓ بھی تھے

حضرت عبداللہ بن سلام ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ عزوجل نے حضرت زید بن سعنہ ؓ کو ہدایت سے نوازنے کا ارادہ فر ما یا، تو حجرت زید بن سعنہ ؓ نے اپنے دل میں کہا کہ حضور ﷺ کے چہرے پر نگاہ پڑتے ہی میں نے نبوت کی تمام نشانیوں کو حضور ﷺ کے چہرے پر پا لیا تھا لیکن دو نشا نیاں ایسی ہیں جن کو میں نے حضور ﷺ میں ابھی تک آزما یا نہیں ہے ایک تو یہ کہ نبی کی بر دباری انکے جلد غصہ میں آ جا نے پر غالب ہوتی ہے دوسری یہ کہ نبی ﷺ کے ساتھ جتنا زیا دہ نا دانی کا معا ملہ کیا جا ئے گا ان کی بر د باری اتنی ہی بڑھتی جا ئے گی۔

چنانچہ ایک دن آپﷺ حجرے سے باہر تشریف لا ئے آپ کے ساتھ حضرت علی بن ابی طالب ؓ بھی تھے آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی اونٹنی پر سوار ہو کر آیا جو بظاہر بد و معلوم ہو تا تھا اس نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ فلاں قبیلہ کی بستی میں میرے ساتھی مسلمان ہو چکے ہیں میں نے ان سے کہا تھا کہا گر وہ اسلام قبول کر لیں گے تو ان پر رزق کی بڑی وسعت ہو جا ئے گی

لیکن اب وہاں قحط سالی آ گئی ہے اور بارش با لکل نہیں ہو رہی ہے یا رسول اللہ ﷺ مجھے اس بات کا خطرہ ہے کہ جیسے وہ لالچ میں آ کر اسلام میں داخل ہو ئے اسی طرح لالچ میں آکر کہیں وہ اسلام سے نکل نہ جا ئیں اگر آپ مناسب سمجھیں تو ان کی مدد کے لیے کچھ بھیج دیں آپﷺ کے پہلو میں جو آدمی تھا آپﷺ نے ان کی طرف دیکھاوہ حضرت علی ؓ تھے۔

آپ ﷺ نے وہ سارا سو نا اس آدمی کو دے دیا اور اس سے فر ما یا یہ لو انکی امداد کے لیے لے جاؤ اور ان میں بر ا بر تقسیم کر دینا۔ حضرت زید بن سعنہ ؓ فرما تے ہیں کہ مقرر میعاد میں ابھی دو تین دن باقی تھے کہ حضور ﷺ با ہر تشریف لا ئے اور آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر ؓ حضرت عمر ؓ اور حضرت عثما ن ؓ اور چند صحابہ بھی تھے جب آپ ﷺ نماز ج ن ا ز ہ پڑھا چکے اور دیوار کے قریب بیٹھنے کے لیے تشریف لے گئے تو میں نے آ گے بڑھ کر آپ ﷺ کی طرف غصے والے چہرے سے دیکھا اور میں نے آپ ﷺ سے کہا کہ اے محمد ﷺ آپ میرا حق کیوں ادا نہیں کرتے ہیں؟ نبی ﷺ کی بردباری ان کے جلد غصے میں آ جا نے پر غالب ہوتی ہے دوسری یہ کہ نبی ﷺ کے ساتھ جتنا نادانی کا معاملہ کیا جا ئے گا اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر دل سے راضی ہوں اور اس بات پر گواہ بنا تا ہوں۔

کہ میرا آدھا مال محمد ﷺ کی ساری امت کے لیے وقف ہے اور میں مدینہ میں سب سے زیادہ مالدار ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے فر ما یا: ساری امت کے بجائے بعض امت کہو کیونکہ تم ساری امت کو دینے کی گنجا ئش نہیں رکھتے ہو۔ میں نے کہا: اچھا بعض امت کے لیے وقف ہے۔ وہاں سے حضرت عمر ؓ اور حضرت زید ؓ حضور ﷺ کی خد مت میں واپس آ گئے اور حضرت زید ؓ نے پہنچتے ہی کہا: اشھد ان لا الہ الا اللہ وان محمد عبدہ ورسولہ اور حضور ﷺ پر ایمان لے آ ئے اور آپکی تصد یق کی اور آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی اور حضور ﷺ کے ساتھ بہت سے غزوات میں شریک رہے اور غزوہ تبوک میں واپس آ تے ہوئے نہیں۔ بلکہ آ گے بڑھتے ہوئے حضرت زید ؓ نے وفات پائی اللہ تعالیٰ حضرت زید ؓ پر اپنی بر کتیں نازل فر ما ئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں