×

”حد سے زیادہ تکلیف پہنچنے پر موت کی تمنا کرنا؟“

`حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کسی پہنچنے والی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے ،اگر اس نے ضرور ہی ایسا کرنا ہے تو؛پھر یوں کرے: اے اللہ پاک! تو مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لئے بہتر ہو،اور مجھے اس وقت فوت کردے،جب وفات میرے لئے بہتر ہو۔

جب انسان اپنے رب پر اس قدر بھروسہ کرلیتا ہے کہ اس پاک ذات کے علاوہ کوئی بھی اس کی ضرورت پوری نہیں کرسکتا تو اللہ پاک بھی اپنے بندے کو مایوس نہیں لوٹاتا اس کی دُعا ضرور قبول فرماتا ہے اور ہمار ا یہ بھروسہ ہی ہمارا ایمان ہے۔پریشانی یا مصیبت یا بیماری کے وقت ایسے الفاظ کہنا درست نہیں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: تم میں سے کوئی بھی کسی تکلیف یا مصیبت کی وجہ سے ہرگز موت کی تمنا نہ کرے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: چچا جان! موت کی تمنا مت کریں۔ اگر زیادہ پریشانی یا مصیبت ہو یا بیماری خطرناک صورت حال اختیار کر جائے تو درج ذیل دعا پڑھنی چاہیے۔ اللھم احینی ما کانت الحیاۃ خیراًلی وتوفنی اذا کانت الوفاۃ خیرا لی اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہے اور اس وقت مجھے فوت کر دینا، جب میرے لیے وفات بہتر ہو۔

بہرحال ایک مرد مومن کی شان کے خلاف ہے کہ وہ مصائب و آلام سے گھبرا کر موت کی خواہش کرے۔موت مانگنے سے موت نہیں آیا کرتی۔ اس کا ایک وقت مقرر ہے کہ اِذَا جَائَ اَجَلُہَا لَا یَسْتَأْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ اس وقت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ اس لیے موت کے آنے کے لیے دعا کرنا قبل از وقت فضول ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ لا یتمنٰی احدکم الموت اما محسنا فلصلَّہ ان یزاداد خیرا وامّا مسیئا فلصلہ ان یستعتب کوئی شخص تم میں سے مرنے کی آرزو نہ کرے

کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو دراز فی عمر کی وجہ سے ممکن ہیزیادہ بھلائی کرے اور اگر برا ہے تو توبہ و استغفار کر کے خدا کو راضٰ کرے اور ایک حدیث میں اس طرح سے فرمایا۔ لا یتمنین احدکم الموت من ضرا صابہ فان کان لابُدّ فاعِلًا فلیقل اللھم احیینی ما کانت الحیٰوۃ خیرا لی وتوفنی اذا کانت الوفاۃ خیرا لی جب تگم یں سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچے تو وہ مرنے کی آرزو نہ کرے۔ اور اگر وہ آرزو کرتا ہے۔

تو اس طرح کر سکتا ہے کہ اے اللہ اگر میرا زندہ رہنا میرے حق میں اچھا ہے تو زندہ رکھ اور اگر مر جانا میرے حق میں بہتر ہے تو مجھے موت دے دے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نجات نہ دے گا تم میں سے کسی کو عمل اس کا تو صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ کا عمل بھی آپ کو نجات کے لیے کافی نہ ہو گا۔

تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نہیں مگر یہ کہ چشم پوشی کرے۔ اللہ میرے حق میں اپنی رحمت کے سبب سے۔ اور حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا ہے لَا یَخَافَ النِّفَاقَ اِلَّا مُؤمِنٌ وَلَا یَأْمَنُہٗ اِلَّا مُنَافِقٌ یعنی نفاق سے کوئی نہیں ڈرتا ہے مگر مؤمن ڈرتا ہے اور نفاق سے کوئی بے خوف نہیں ہوتا ہے مگر منافق بے خوف ہو جاتا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں