×

دو ایسے راز جو رشتوں کو مضبوط رکھتے ہیں ؟

حضرت خالد بن ولید ؓ صحابی رسول کی جنگ میں کامیابی کا راز: حضرت خالد بن ولید ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہنے جو عمرہ کیا تھا تو میں نے بھی آپکے ساتھ عمرہ کیا تھا ۔ آپ نے سر مبارک منڈوایا تو تمام صحابہ ؓ آپکے بال مبارک کو حاصل کرنے کے لئے لپک پڑے میں آپ کے ماتھے کے بال حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا میں نے آپ کا بال اپنی ٹوپی کے اگلے حصے میں رکھ لیا اس کے بعد میں جس جنگ پر بھی بھیجا گیا مجھے فتح نصیب ہوئی ۔

دلو میں رہنا سیکھیں گھروں میں تو سبھی رہتے ہیں ۔ رشتوں کو مضبوط رکھنے کے دوراز : جب آپ غلط ہو تو اپنی غلطی تسلیم کریں ،جب آپ صحیح ہوں تو صرف خاموشی اختیار کریں۔ بدی کاموقع ہوتے ہوئے بدی نہ کرنا بہت بڑی نیکی ہے ۔ ہمیشہ اپنی چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے بچنے کی کوشش کرو، کیونکہ انسان پہاڑوں سے نہیں پتھروں سے ٹھوکر کھاتا ہے ۔

جب پانچ سیکنڈ مسکرانے سے فوٹو اچھی ہوسکتی ہے تو ہمیشہ مسکرانے سے زندگی کتنی اچھی اور حسین ہوسکتی ہے ، مسکرانا اچھا ہے ۔

مایوس وہ ہوتا ہے جو اللہ پاک پر یقین نہیں رکھتا اور محروم وہ ہوتا ہے جو اللہ پاک کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا۔ اے بلندیوں کے بادشاہ اے ربِ کائنات ہمارے دل اور ہمارے قدم اپنی رضا کی طرف پھیر دیجئے ۔مال اور دولت خدا نے اس لیے دیا ہے کہ زندگی آرام کے ساتھ گزرے۔ زندگی اس کے لیے نہیں ہے کہ مال و دولت جمع کرنے میں صرف کریں۔لوگوں نے ایک عقل مند شخص سے پوچھا۔ نیک بخت کون ہے؟ اور بدبخت کس کو کہیں؟

اس نے جواب دیا۔ نیک بخت وہ ہے جس نے کھایا اور بویا۔ یعنی خدا کی راہ میں خرچ کیا۔ اور بدبخت وہ ہے کہ مر گیا اور چھوڑ گیا۔ یعنی نہ خود آرام سے زندگی بسر کی نہ غریبوں کو کچھ دیا۔ سب چھوڑ کر چلا گیا۔دو آدمیوں نے بے کار محنت کی اور بے فائدہ کوشش کی۔ ایک وہ جس نے دولت جمع کی اور خرچ نہ کی دوسرا وہ جس نے علم حاصل کیا اور اس پر عمل نہ کیا!چاہے تم جس قدر علم حاصل کرو۔

اگر اس پر عمل نہیں ہے تو تم جاہل ہو۔ اس طرح کا بے عمل شخص نہ تو عالم ہے نہ دین دار، بلکہ اس گدھے کی طرح ہے جس پر کتابوں کا بوجھ لدا ہوا ہو اور اس عقل سے خالی کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اس پر لکڑیاں لدی ہوئی ہیں یا کتابیں!علم حاصل کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دین کی خدمت کی جائے اور اس کے قانون پر عمل کیا جائے۔ اس لیے علم حاصل نہیں کیا جاتا کہ اس کے ذریعہ دنیا کا عیش و آرام حاصل ہو۔

جس شخص نے اپنے علم کو مال کے بدلے بیچ دیا اور لوگوں کے دکھانے کے لیے عبادت اور پرہیزگاری اختیار کی اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے کہ جس نے کھیت کاٹ کر کھلیان لگایا ہو اور پھر اس میں آگ لگا دی ہو۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں